ہفتہ 7 نومبر 2026 - 13:19
امریکی انتخابات کے نتائج، ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور اس کی سیاسی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا: علامہ مقصود علی ڈومکی

حوزہ/امام جمعہ جیکب آباد نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور ٹرمپ اور اس کی پارٹی کی بدترین شکست پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے امریکی انتخابات کے نتائج، ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور اس کی سیاسی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پہلے خطبے میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی سیرتِ طیبہ اور تاریخی خطبۂ فدکیہ کے مختلف علمی، قرآنی، اعتقادی اور سیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ خطبۂ فدکیہ کو محض فدک کی زمین یا میراث کے تنازعے تک محدود کرنا اس کے عظیم فکری اور دینی پیغام کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ یہ خطبہ درحقیقت دفاعِ اسلام، دفاعِ ولایت، قرآن کے قانون، عدلِ اجتماعی اور تحفظِ حقوق کا ایک جامع منشور ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ کی رحلت کے بعد مسجد نبوی میں تاریخی خطاب کے ذریعے امت کو توحید، نبوت، قرآن، فلسفۂ احکامِ الٰہی، امامت و ولایت اور اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا۔ آپؑ نے اپنے مؤثر قرآنی استدلال سے واضح کیا کہ اسلامی معاشرے میں ہر فیصلے کا معیار کتابِ خدا اور عدل و انصاف ہونا چاہیے۔

انہوں نے خطبۂ فدکیہ کے اس اہم فرمان «وَإِمَامَتَنَا أَمَانًا مِنَ الْفُرْقَةِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے امامت کو امت کے انتشار سے تحفظ اور دینی نظام کے استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔ آپؑ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کے دفاع کے لیے علم، بصیرت، شجاعت، استدلال اور استقامت ضروری ہیں۔ حق کے مقابلے میں خاموشی، بے حسی اور اجتماعی ذمہ داریوں سے پہلو تہی معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔

دوسرے خطبے میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے امریکہ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کی عبرتناک سیاسی شکست اور رسوائی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور ان کی سیاسی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا ہیں۔ یہی پیشنگوئی ایک ولی خدا شہید سید علی خامنہ ای نے بیان کی تھی کہ فرعون یزید اور رضا خان کی طرح ٹرمپ بھی اپنے عروج اور تکبر کے زمانے میں رسوا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار اور استکباری طاقتیں اپنی عسکری قوت، اقتصادی وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود ہمیشہ کامیاب نہیں رہ سکتیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرعون، نمرود اور دیگر جابر حکمران اپنی طاقت کے غرور میں مبتلا رہے، مگر بالآخر انہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قرآن مجید کا واضح اعلان ہے: «وَجَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»، یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین اور اعتماد رکھنا چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ»، یعنی مؤمنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمہ ایک حق ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ»، اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ ایمان کو مشکلات، محاصروں، دباؤ اور آزمائشوں سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا وعدہ برحق ہے، تاہم اس نصرت کے مستحق بننے کے لیے ایمان، تقویٰ، صبر، اتحاد، عدل، اطاعتِ الٰہی اور حق پر ثابت قدمی ضروری ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت بھی ظلم اور تکبر کی بنیاد پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی، جبکہ حق و صداقت کی جدوجہد بالآخر اپنا راستہ بناتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن مجید نے مظلوم اور مستضعف اقوام کی سربلندی کی بشارت دی ہے۔ سورۂ قصص میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ زمین میں کمزور بنائے گئے لوگوں پر احسان فرمائے گا، انہیں پیشوا اور وارث بنائے گا۔ ہمیں اسی قرآنی وعدے پر یقین رکھتے ہوئے ظلم، استکبار اور ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha